By Ataullah Kadak

سوکھی شاخوں پر پرِندے نہیں بیٹھا کرتے
جہاں دیکھو وہاں بس درِندے ہی ہیں نظر آتے

بنجر زمین پر اب کوئی گھانس تک نہیں اُگتی
بس معصوموں کی چیخیں کانوں میں ہیں چُبھتی

در در بھٹکتے ہیں بس مارے پھرتے
مُحبّت کے سائے اب کہیں نہیں دِکھتے

پانی مانگو تو زہر پیالوں میں ہیں بھرتے
یہاں اپنے کم اپنوں میں سانپ زیادہ بستے

یہاں کوئی محفوظ نہیں جان لے اے عطا
خود مخلوق یہاں خدا کے داوے ہیں کرتے

Ataullah Kadak, an avid reader and writer, finds solace in words. He tries to pen down the emotions which can’t be expressed by tongue. He is fond of Urdu and also writes in English and Hindi. 
Instagram handle : ataullah_kadak4996

Leave a Reply

%d bloggers like this: